ستم دو ستم
ستم دو ستم
محمد اویس منیر
ہم روز بروز یہ خبروں میں سنتے ہیں کہ آج کل پاکستان شدید مالیاتی بحران کا شکار ہے۔ یا پھر دیوالیہ ہونے کے خدشات سر پر منڈلارہے ہیں۔ اور اگر آپ بین الاقوامی میڈیا کو فالو کرتے ہیں تو دیگر ممالک کے حوالے سے بھی یہ خبریں سنتے ہوں گے۔ میں نے اکیس برس کی زندگی میں کبھی کوئی ایسی خبر نہیں سنی جس میں یہ بتایا جارہا ہو کہ آج فلاں ملک نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا پالیا ہو، پاکستان جیسے ممالک کریڈٹ کرنچ کا شکار کیوں ہیں؟
کیا کرپشن ہی اس کی وجہ ہے یا کچھ اور۔۔
کیا سرکاری مس مینجمنٹ بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے؟
اور یہ جو قرضے ملتے ہیں، وہ جاتے کہاں ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جس نے ہر کامرس اور بینکنگ سے نابلد شخص کو پریشان رکھا ہے۔
اگر میں آپ کو بتاؤں کہ جو قرضے آئی ایم ایف کی جانب سے بھاری سود پر گرانٹ کہے جاتے ہیں وہ کبھی پاکستان تک پہنچتے ہی نہیں۔۔۔
تو آج ہمارے کوہستانی پڑوسی روز بروز ترقی کیوں کررہے ہیں؟
ان کی پاکستان سے بہتر کرنسی ریٹ کیوں ہیں حالاں کہ وہاں کی نوزائیدہ حکومت کو کچھ عرصہ ہی ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ کہ شدید لعنتوں کے باوجود وہاں کے سابق صدر اشرف غنی کو آئی ایم ایف کی جانب دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ مگر پاکستان کی بدقسمتی کہ ہمارا مغرب سے اقتصادیات پڑھ کر آنے والا ہر وہ شخص جو یا تو سیاست میں وراثتی گدی نشینی اختیار کرتا ہے یا بیوروکریسی بانہیں کھولے استقبال کرتی ہے،
اسے جب بھی معاشی بحران کی صورت ملتی ہے تو وہ مغربی اساتذہ کی تربیت مخصوص برین واشنگ کے سبب ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی جانب ہی دیکھتا ہے، جسے ہم آکسفورڈ اور ہارورڈ کوالیفائیڈ سمجھتے ہیں، ان میں سے بیشتر کی ذہنی سطح یہی ہے۔
(یہ بھی اشرافیہ کا ایک میکنزم ہے کہ مخصوص سطحی ذہنیت اور رٹا مار قابلیت والے ہی پبلک سروس کمیشن سے پاس کیوں ہوتے ہیں)
تومعاملہ کچھ یوں ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو واشنگٹن کے اداروں کی طرف سے مسلسل حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اپنے وسائل کی 'قلت' کو کم کرنے کے لیے رقم ادھار لیں۔ اور جو رقم مستعار بھاری سود پر لی جاتی ہے وہ کبھی پاکستان منتقل ہوتی ہیں نہیں۔۔۔
بلکہ جس بینک نے قرضے جاری کرنے ہیں، وہ پاکستانی برانچ یا ۔مساوی بینک کو مانگی گئی رقم جاری کرنے کو کہتا ہے۔ یعنی 'قرض' کو فعال کرنے کے لیے پاکستان کو فارن بینک کے 'قرض' کے لیے رقم پیدا کرنی ہوگی۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ نہ کوئی ڈالر آیا اور نہ ہی خرچ ہوا۔
بس پاکستانی روپیہ چھپا۔ یہ ہے ایک الٹیمیٹ گیم۔
جیسے اکشے کمار کی مووی کا کلپ یاد آیا، جس میں اکشے اور اس کا ساتھی پیسوں کا بٹوارا کرتے ہیں۔ اکشے اپنے ساتھی کو انتہائی دل چسپ انداز سے بیوقوف بناتا ہے۔۔۔۔
اور میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہی مناظر آئی ایم ایف اور پاکستان کی میٹنگ کے بھی ہوتے ہوں گے۔
ایک تیرا، ایک میرا۔۔۔۔
Comments
Post a Comment